ہمیں فالو کریں
Banner

متحدہ عرب امارات کی اقتصادی سفارت کاری

مشنز اور سفارت خانوں کے عالمی نیٹ ورک کے ذریعے وزارت خارجہ وبین الاقوامی تعاون (ایم او ایف اے آئی سی) کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا، تجارت کو فروغ دینا اور دو طرفہ اور کثیر الجہتی اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ کارروائیاں متحدہ عرب امارات کی اقتصادی سفارت کاری کا بنیادی حصہ ہیں جو بالآخر ویژن 2021 اور 2071 کے صد سالہ منصوبے کے تحت اجاگر کی گئی متحدہ عرب امارات کی طویل مدتی اقتصادی اور سماجی ضروریات کی حمایت کرتی ہیں۔

متنوع معیشت کی معاونت

متحدہ عرب امارات متنوع معیشت کی تشکیل کے لیے کام کر رہا ہے اوراپنے وافر قدرتی وسائل کے فوائد بھی حاصل کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر ایک اہم كردار کی حیثیت سے عالمی اقتصادی رجحانات سے فائدہ اٹھائے۔ متحدہ عرب امارات کی معیشت پہلے ہی عرب دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جہاں سیاحت، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، مالیاتی خدمات، رئیل اسٹیٹ، بینکنگ اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے مضبوط اور پائیدار ترقی پیدا ہوئی ہے۔ تیزی سے متحدہ عرب امارات مستقبل کی معیشت کی طرف دیکھ رہا ہے جس میں تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صحت اور صنعتی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اندرونی وبیرونی سرمایہ کاری

متحدہ عرب امارات مكا سرمایہ كار دوست ٹیکس ضوابط، ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے اور کاروبار کے قیام میں رکاوٹوں کو کم سے کم کرنے کے ذریعے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے کا ایک متاثر کن ٹریک ریکارڈ ہے۔ متحدہ عرب امارات سرمایہ کاری کے لئے بہترین ممکنہ ریگولیٹری ماحول فراہم کرنے کے اپنے عزم کا مسلسل مظاہرہ کر رہا ہے۔ ٢٠١٨ کے ایف ڈی آئی قانون نے ١٠٠ فیصد غیر ملکی ملکیت متعدد معاشی شعبوں میں کھول دیا ہے۔ یہ نیا فریم ورک ان سرمایہ کاریوں کی مدد کرتا ہے جو جدید اور اعلیٰ معیار کی صنعتوں پر مرکوز پیداواری سلسلوں کے ذریعے علاقائی اور عالمی معیار کی صنتعیں تعمیر کرتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے کامیاب خود مختار دولت فنڈز کے قیام سمیت بیرونی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لئے بھی کام کیا ہے۔ ان فنڈز کے ذریعے متحدہ عرب امارات دنیا کے کئی حصوں میں ایک بڑا سرمایہ کار بن گیا ہے۔ ان فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع کو متحدہ عرب امارات کی ترقی میں واپس سرمایہ کاری کی جاتی ہے جس کا ایک اہم حصہ توانائی، صنعت، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، صحت کی دیکھ بھال اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں جاتا ہے۔

وزارت خارجہ دو طرفہ دہرے ٹیکسیشن معاہدوں اور دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدوں (جسے سرمایہ کاری تحفظ اور فروغ کے معاہدوں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) پر دستخط کرنے کی قومی کوششوں کی مدد کرتے ہوئے ٹیکس اور سرمایہ کاری کے معاملات پر وضاحت کو یقینی بنانے کے لئے کام کرتی ہے۔ اور دو طرفہ ہوابازی معاہدوں پر دستخط کرنے میں بھی مدد کرتا ہے جو متحدہ عرب امارات کے ہوابازی کے شعبے کے حجم کو دیکھتے ہوئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے جس میں دنیا کی دو معروف ایئر لائنز ایمریٹس اور اتحاد کی میزبانی شامل ہے۔

تجارتی سہولت

بنیادی ڈھانچے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کے ذریعے متحدہ عرب امارات علاقائی اور عالمی تجارتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کو ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان متحدہ عرب امارات کے منفرد جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کا دروازہ ہونے سے مزید تقویت ملی ہے۔ تجارتی حجم کو مزید بڑھانے کی کوشش میں متحدہ عرب امارات عالمی آزاد تجارت کا سرکردہ حامی ہے اور 1996 سے عالمی تجارتی تنظیم کا رکن ہے۔

شراکت داری میں سفارت کاری

وزارت خارجہ امارات کی سطح پر سرمایہ کاری کے فروغ کے اداروں، نجی شعبے، خود مختار ملكی فنڈز، کاروباری کونسلوں اور دیگر اقتصادی کرداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے کامیاب نتائج کو یقینی بنایا جاسکے۔ 2019 کے اواخر میں ایمریٹس ڈپلومیٹک اکیڈمی نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے لئے اقتصادی سفارت کاری سیمینار کی میزبانی کی جس کا مقصد دونوں ممالک کی اقتصادی طاقت کو مضبوط بنانا تھا۔

شہزادہ سعود الفیصل انسٹی ٹیوٹ آف ڈپلومیٹک اسٹڈیز کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں غیر ملکی منڈیوں میں متحدہ عرب امارات اور سعودی اداروں کی مدد کرنے، ان کی معیشتوں کے عالمی انضمام کی سطح کا جائزہ لینے اور دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاونت کے لئے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش کیگئی۔

 

ٹول ٹپ