ہمیں فالو کریں
جنرل۔

متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کے آغاز کے ساتھ ہی جون کے مہینے کے لیے ترجیحات کا کیا اعلان

جمعرات 01/6/2023

آج سے، اور دوسری بار اپنی رکنیت کے دوران، متحدہ عرب امارات نے جون کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے، اس طور پر کہ وہ اپنے کام میں انسانی بھائی چارے کی اقدار کو فروغ دینے ان کو مستحکم کرنے، موسمیاتی تبدیلی، امن و سلامتی، اور اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے درمیان تعاون کو ترجیح دے گا۔

متحدہ عرب امارات نے صدر کی حیثیت سے اور ساتھی اراکین کے اتفاق سے جون کے مہینے کے لیے سلامتی کونسل کے پروگرام کو ترتیب دے دیا ہے نیز یہ ریاست کونسل کے اجلاسوں کی صدارت بھی کرے گا اور فیصلوں اور دیگر دستاویزات کو اپنانے میں سہولت فراہم کرے گا۔ اس میں سلامتی کونسل کی سات قراردادوں کی منظوری کے علاوہ کل 17 بریفنگ، فوجی تعاون کرنے والے ممالک کی دو میٹنگیں، ایک بحث، ایک کھلی بحث، تیرہ بند مشاورت، ایک غیر رسمی انٹرایکٹو ڈائیلاگ شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل نمائندہ محترمہ لانا ذکی نسیبہ نے کہا: "ہم اپنی رکنیت کے دوران دوسری بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے پر خوشی محسوس کررہے ہیں نیز اپنے ان وعدوں کو پورا کرنے میں بھی خوشی محسوس کررہے ہیں جن میں امن کو تقویت دینا، جامعیت کو فروغ دینا، آسانی اور لچک پیدا کرنا، اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنا، مکالمے کو تقویت دینے اور کونسل کے اراکین کے خیالات کو ملانے کے لیے دستیاب تمام ہتھیار اور صلاحیتوں کا استعمال کرنا، جس کا مقصد انتہائی اہم اور فوری عالمی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، اور اس طرح کونسل کے مینڈیٹ کو مکمل طور پر لاگو کرنے کے قابل ہونا شامل ہے۔"

محترمہ نے مزید کہا: "سلامتی کونسل کی ہماری صدارت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب کہ ہم ایجنڈے پر بحرانوں کی کثرت کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ لہذا، جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے جدید اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے تعاون کو بڑھانا۔"

محترمہ نے اس جانب توجہ دلائی کہ "تعمیری مکالمے کی حمایت کرتے ہوئے اور اہداف کے بارے میں بات کرنے سے ان کے حصول کی طرف بڑھنے پر مبنی کثیر الجہتی کارروائی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایسے وسیلوں کو پیدا کرنے کے لیے جو امن کے حصول اور عالمی سلامتی کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں، عالمی برادری کو موجودہ وقت میں ایک مربوط نقطہ نظر کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے"۔

جون کے مہینے کے دوران، متحدہ عرب امارات سلامتی کونسل میں تین "بڑی تقریبات" کا انعقاد کرے گا۔ محترمہ سفیر نسیبہ نے کہا، "ہم بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے، دنیا بھر کے تنازعات پر

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور اقوام متحدہ اور علاقائی تنظیموں کے درمیان عملی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر سکتے ہیں بلکہ ہمیں کرنا چاہیے۔" محترمہ نے مزید کہا: "ریاست کی صدارت کے دوران ہونے والی اہم تقریبات کونسل کے ممبران اور پوری بین الاقوامی برادری کے لیے ان اہم ترجیحات پر توجہ مرکوز کریں گی، اور ان کا مقصد ان کی تعمیر ہوگی۔"

8 جون کو متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے درمیان تعاون پر ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ کی میزبانی کرے گا، جس کا مقصد علاقائی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے عرب کی قیادت میں حل کی اہمیت کی توثیق کرنا اور دونوں تنظیموں کے درمیان متعدد اہم علاقائی مسائل پر تعاون کو بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ان میں انسداد دہشت گردی، خواتین اور نوجوانوں کی شرکت، اور قدرتی آفات کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ردعمل شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات 13 جون کو موسمیاتی تبدیلی اور امن و سلامتی پر وزارتی سطح پر ایک کھلے مباحثے کا بھی اہتمام کرے گا۔ اس تقریب میں اقوام متحدہ کے زیر تحت امن مشنز، تنازعات کے بعد کے حالات اور علاقائی سیاق و سباق کی مثالیں پیش کی جائیں گی جس کا مقصد بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے سلامتی کونسل کے مینڈیٹ پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو اجاگر کرنا ہوگا۔

14 جون کو متحدہ عرب امارات امن کو فروغ دینے اور اسے برقرار رکھنے میں انسانی بھائی چارے کی اقدار پر وزارتی سطح پر بریفنگ دے گا۔اس تقریب کے ذریعے وہ تنازعات پر کونسل کی توجہ، اور عدم برداشت، نفرت انگیز تقریر اور انتہا پسندی کے درمیان پائے جانے والے فرق کو دور کرنے کی کوشش کرے گا جو اکثر اسے ہوا دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں، محترمہ سفیر نسیبہ نے وضاحت کی کہ "عدم برداشت، نفرت انگیز تقریر، نسل پرستی اور انتہا پسندی کی لہروں میں خطرناک حد تک اضافہ تشدد کو اور معاشروں کے درمیان تقسیم کو ہوا دے گا۔"محترمہ نے مزید کہا، "دنیا کو 1945 کے بعد سب سے زیادہ مسلح تنازعات کا سامنا ہے، اس لیے اس تقریب کا انعقاد صحیح وقت پر ہورہا ہے۔"

رواں ماہ کے دوران سلامتی کونسل کے ارکان بھی وسیع مسائل پر بات کریں گے۔ ان میں امن قائم کرنے کے مینڈیٹ کی تجدید سے لے کر وسیع اور پیچیدہ چیلنجز شامل ہیں جن میں مختلف علاقائی سیاق و سباق شامل ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات جنوری 2022 سے سلامتی کونسل کا رکن ہے، اور گزشتہ سال مارچ تک کونسل کے صدر کے عہدے پر فائز رہا ہے۔

ٹول ٹپ